ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ریپبلک ٹی وی کے3؍ اعلیٰ عہدیداروں سے9؍ گھنٹہ طویل پوچھ تاچھ

ریپبلک ٹی وی کے3؍ اعلیٰ عہدیداروں سے9؍ گھنٹہ طویل پوچھ تاچھ

Mon, 12 Oct 2020 13:55:45    S.O. News Service

ممبئی،12؍اکتوبر(ایس او نیوز؍ایجنسی) ممبئی پولیس ٹی آر پی معاملہ میں ملزمین پر اپنا شکنجہ کستی جارہی ہے۔ خصوصی طور پر اتوار کو ریپبلک ٹی وی  کو اپنے شکنجے میں لیتے ہوئے تین اعلیٰ افسران یعنی ری پبلک ٹی وی کے چیف ایکزیکٹیو آفیسر (سی ای او)، چیف آپریٹنگ آفیسر (سی او او) اور ڈسٹری بیوشن ہیڈ سے ممبئی کرائم برانچ نے تقریباً 9؍  گھنٹے تک پوچھ تاچھ کی۔  انہیں  پیر کو بھی تمام دستاویزات کے ساتھ  حاضر ہونے کا حکم دیا گیا ہے۔

تفتیش کا دائرہ وسیع:  اس کے علاوہ تفتیش کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے کرائم برانچ نے شہر کی ایک بینک سے ریپبلک ٹی وی کے ایک بینک اکاؤنٹ کی تین سال کے ٹرانزکشن کی ڈیٹیل بھی حاصل کرلی ہے۔   اتوار کو سب سے پہلے ری پبلک ٹی وی کا سی ای او وکاس کھان چندانی صبح ساڑھے10؍ بجے ممبئی پولیس ہیڈ کوارٹر میں تفتیشی ایجنسی کے روبرو حاضر ہوا ۔  کرائم برانچ کی ایک ٹیم نے اس سے9؍  گھنٹے تک پوچھ تاچھ کی ۔ سی او او ہرش بھنڈار دوپہر ایک بجے ایجنسی کے روبرو حاضر ہوا ۔ اس سے  شام ۶؍ بجے تک پوچھ تاچھ کا سلسلہ جاری رہا ۔

 حراست میں لے کر پوچھ تاچھ:  ممبئی کرائٔم برانچ کے ایک اعلیٰ افسر نے بتایاکہ ری پبلک ٹی وی کے ڈسٹری بیوشن ہیڈ گھنشیام سنگھ کو9؍  اکتوبر کو سمن بھیجا گیا تھا لیکن اس نے جب کوئی جواب نہیں دیا تو10؍ اکتوبر کو دوبارہ سمن بھیجا گیا ۔   اس نے دوسرے سمن پر ریاست سے باہر ہونے کا عذر پیش  اور 16؍اکتوبر کو حاضر ہونے کی اطلاع دی تھی تاہم  اس کا موبائل لوکیشن ٹریس کرکے اسے دمن میں مقامی پولیس کی مدد سے حراست میں لیا گیا اور  پوچھ تاچھ کی گئی ۔ 

کرائم برانچ کے افسر نے بتایا کہ فرضی ٹی آر پی  کےمعاملہ میں ری پبلک ٹی وی کے پیسوں کے لین دین سے متعلق تفتیش کرتے ہوئے کرائم برانچ نے  شہر کی ایک بینک سے کئے جانے والے لین دین سے متعلق تین سال کی اکاؤنٹ کی تفصیلات بھی اکٹھا کی ۔

6؍ ریاستوں میں ٹیمیں روانہ: اس کے علاوہ کرائم برانچ نے اپنی تفتیش کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے مہاراشٹر کے علاوہ دیگر 6؍ ریاستوں میں پھیلے فرضی ٹی آر پی کے ریکٹ سے جڑی تفصیلات کو اکٹھا کرنے لئے  ٹیمیں  روانہ کردی گئی ہیں۔ پولیس  نے ان ریاستوں کا نام ظاہر کرنے سے انکار کیا ہے۔


Share: